جمعہ 3 جولائی 2026 - 19:58
کربلا کی شیر دل خاتون حضرت زینب (س) پیغامِ کربلا کی عظیم سفیر، شریکۃُ الحسین اور قافلۂ اسارت کی بے مثال قائد

حوزہ/ حضرت زینبؑ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی صاحبزادی، رسولِ اکرم (ص) کی نواسی اور امام حسنؑ و امام حسینؑ کی ہمشیرہ تھیں۔ آپؑ نے نبوت کے گھر میں آنکھ کھولی، ولایت کی آغوش میں تربیت پائی اور عصمت و طہارت کے ماحول میں علم، حلم، تقویٰ، عبادت، فصاحت اور بصیرت کے وہ اوصاف حاصل کیے جنہوں نے آپؑ کو اسلامی تاریخ کی منفرد ترین خواتین میں ممتاز مقام عطا کیا۔

تحریر: فرخ رضا ترمذی

حوزہ نیوز ایجنسی|

تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کا اندازہ صرف ان کے حسب و نسب سے نہیں بلکہ ان کے کردار، بصیرت اور تاریخ ساز فیصلوں سے ہوتا ہے۔ حضرت زینب بنت علی علیہا السلام انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے صبر کو قوت، مصیبت کو عزیمت، اسیری کو قیادت اور خطابت کو انقلاب میں بدل دیا۔ اگر امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں اپنے مقدس خون سے دینِ محمدی ﷺ کو نئی زندگی عطا کی تو حضرت زینبؑ نے اسی خونِ شہادت کی حرمت کو اپنے صبر، بصیرت، جرأتِ اظہار اور بے مثال خطبات کے ذریعے رہتی دنیا تک پہنچا دیا۔ اسی لیے تاریخ انہیں صرف بنتِ علیؑ، بنتِ زہراؑ اور نواسیٔ رسولؐ کے حوالے سے نہیں پہچانتی بلکہ “شریکۃُ الحسینؑ” کے اس عظیم لقب سے یاد کرتی ہے، جو ان کے بے مثال تاریخی کردار کا اعتراف ہے۔

حضرت زینبؑ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی صاحبزادی، رسولِ اکرم ﷺ کی نواسی اور امام حسنؑ و امام حسینؑ کی ہمشیرہ تھیں۔ آپؑ نے نبوت کے گھر میں آنکھ کھولی، ولایت کی آغوش میں تربیت پائی اور عصمت و طہارت کے ماحول میں علم، حلم، تقویٰ، عبادت، فصاحت اور بصیرت کے وہ اوصاف حاصل کیے جنہوں نے آپؑ کو اسلامی تاریخ کی منفرد ترین خواتین میں ممتاز مقام عطا کیا۔

بچپن ہی سے آپؑ نے آزمائشوں کا سامنا کیا۔ رسولِ خدا ﷺ کی رحلت، حضرت فاطمہ زہراؑ کی مظلومانہ جدائی، حضرت علیؑ کی شہادت اور امام حسنؑ کی المناک وفات نے آپؑ کے دل کو دکھ ضرور دیا، مگر آپؑ کے عزم کو کمزور نہ کر سکے۔ انہی مسلسل آزمائشوں نے آپؑ کو وہ استقامت عطا کی جو کربلا میں اپنی معراج پر جلوہ گر ہوئی۔

کربلا میں حضرت زینبؑ کا کردار محض ایک غم زدہ بہن کا کردار نہیں تھا، بلکہ وہ پورے حسینی قافلے کی نگہبان، بچوں کی سرپرست، خواتین کی دلجو، امامِ وقت کی مددگار اور تحریکِ حسینی کی امین تھیں۔ عاشورا کے دن جب بنی ہاشم کے ایک ایک جوان نے راہِ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کیا تو حضرت زینبؑ نے ہر صدمے کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ اور جب عصرِ عاشورا امام حسینؑ نے سجدۂ شہادت میں اپنی جان ربِ کریم کے سپرد کی تو اس عظیم بہن کی زبان پر شکوہ نہیں بلکہ رضا تھی:

“اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا هٰذَا الْقُرْبَانَ.”

“اے پروردگار! ہماری اس قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب صبر نے استقامت کا اور رضا نے بندگی کا بلند ترین مقام حاصل کیا۔

اگرچہ کربلا کا معرکہ دس محرم کو اختتام پذیر ہوا، مگر درحقیقت حضرت زینبؑ کی جدوجہد اسی دن شروع ہوئی۔ عاشورا کے بعد آپؑ ہی وہ ہستی تھیں جنہوں نے امام حسینؑ کے مشن کو زندہ رکھا۔ یہی حقیقت لقبِ “شریکۃُ الحسینؑ” کی اصل روح ہے۔ اس لقب کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ آپؑ امام حسینؑ کی بہن تھیں بلکہ یہ ہے کہ آپؑ ان کے مقصد، ان کے قیام اور ان کے پیغام کی حقیقی شریک تھیں۔ اگر حسینؑ نے کربلا میں ظلم کو اپنے خون سے شکست دی تو زینبؑ نے کوفہ اور شام میں اپنی زبان سے اس شکست کو تاریخ کا فیصلہ بنا دیا۔

امام حسینؑ نے کربلا میں خون کی زبان سے حق کا پیغام لکھا اور حضرت زینبؑ نے کوفہ و شام میں خطابت کی زبان سے اسے ہمیشہ کے لیے پڑھ دیا۔

اسی حقیقت کو ایک شاعر نے نہایت خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے:

تری سنت ہے شہیدوں کے لہو کی تشہیر
بنتِ زہراؑ! ترے خطبوں کی صدا باقی ہے

واقعۂ عاشورا کے بعد اہلِ بیتؑ کے خیموں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، بچوں کو پیاس اور خوف کے عالم میں صحرا میں چھوڑ دیا گیا اور خاندانِ رسالتؐ کو اسیر بنا کر کوفہ و شام روانہ کیا گیا۔ ایسے کٹھن حالات میں حضرت زینبؑ نے جس حوصلے، تدبر اور قیادت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ انسانیت کا ایک روشن باب ہے۔ بیمار امام زین العابدینؑ کی حفاظت، یتیم بچوں کی دلجوئی، خواتین کی دل داری اور ہر منزل پر حق کی ترجمانی، یہ سب ذمہ داریاں آپؑ نے صبر و حکمت کے ساتھ نبھائیں۔

کوفہ کے بازار ہوں، دمشق کی گلیاں ہوں یا یزید کا دربار، حضرت زینبؑ نے ہر مقام پر حق کی وہ گونج بلند کی کہ باطل کے ایوان لرز اٹھے۔ ان کے خطبات نے پیغامِ کربلا کو ایسی تابندگی عطا کی کہ ظلم کی ہر تدبیر، ہر چال اور ہر فریب خاک میں مل گیا۔ یزید نیزوں پر سر تو اٹھا سکا، مگر حسینؑ کے لہو سے لکھا ہوا پیغام نہ چھپا سکا، نہ مٹا سکا۔ حضرت زینبؑ کی جرأتِ گفتار نے کربلا کو محض ایک سانحہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے حق و باطل کے درمیان ایک ابدی معرکہ اور بیداری کی لازوال تحریک بنا دیا، ایسی تحریک جسے نہ کوئی تخت دبا سکا، نہ کوئی دربار خاموش کر سکا اور نہ ہی کوئی جابر اقتدار تاریخ کے حافظے سے مٹا سکا۔

کوفہ میں ضمیر بیدار ہوا تو شام میں اقتدار بے نقاب ہو گیا۔ حضرت زینبؑ کی زبان جہاں عوام کے لیے نصیحت تھی، وہیں ظالم حکمرانوں کے لیے اعلانِ حق بھی تھی۔

اس کے بعد دربارِ یزید میں حضرت زینبؑ نے وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے ایک فاتح بادشاہ کو اخلاقی طور پر شکست دے دی۔ یزید اپنے اقتدار پر نازاں تھا، مگر ایک اسیر خاتون نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آپؑ نے اعلان فرمایا:

“فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا، وَلَا تُمِيتُ وَحْيَنَا.”

“خدا کی قسم! نہ تم ہمارے ذکر کو مٹا سکتے ہو اور نہ ہی وحی کے پیغام کو ختم کر سکتے ہو۔”

اسی دربار میں جب یزید اپنی ظاہری فتح پر اترانے لگا تو حضرت زینبؑ نے ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو رہتی دنیا تک صبر و رضا کی معراج سمجھا جاتا ہے:

“مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا.”

“میں نے تو ہر منظر میں اللہ کی مشیت کا حسن ہی دیکھا ہے۔”

وقت نے ثابت کر دیا کہ یزید کا اقتدار ختم ہو گیا، اس کے محلات کھنڈر بن گئے، مگر حضرت زینبؑ کی آواز آج بھی ہر منبر، ہر مجلس اور ہر آزادی پسند دل میں زندہ ہے۔

حضرت زینبؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صبر کا مطلب ظلم پر خاموش رہنا نہیں بلکہ حق کے لیے ثابت قدم رہنا ہے۔ قیادت منصب سے نہیں بلکہ کردار سے جنم لیتی ہے۔ ایک باوقار، صاحبِ علم اور صاحبِ بصیرت خاتون پورے معاشرے کی سمت متعین کر سکتی ہے۔ حضرت زینبؑ نے عورت کے مقام کو عزت، قیادت، علم، شعور اور استقامت کی ایسی بلندی عطا کی جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔

اگر حضرت زینبؑ نہ ہوتیں تو شاید کربلا ایک عظیم سانحہ بن کر تاریخ کے صفحات میں محدود ہو جاتی، لیکن آپؑ کے خطبات نے اسے ایک زندہ تحریک، ایک دائمی شعور اور ایک ابدی پیغام بنا دیا۔ امام حسینؑ نے کربلا میں اسلام کو اپنے خون سے بقا دی اور حضرت زینبؑ نے کوفہ و شام کے ایوانوں میں اسی اسلام کو اپنی زبان سے دوام بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کربلا کا ذکر ہوتا ہے تو حسینؑ کے ساتھ زینبؑ کا نام بھی اسی عقیدت سے لیا جاتا ہے، کیونکہ کربلا کی تفسیر حسینؑ کی شہادت ہے اور اس کی تعبیر زینبؑ کا خطبہ۔

حضرت زینب بنت علیؑ صبر کی ملکہ، استقامت کی علامت، حق کی ترجمان، پیغامِ عاشورا کی پہلی مبلغہ، قافلۂ اسارت کی بے مثال قائد اور حقیقی معنوں میں شریکۃُ الحسینؑ ہیں۔ تاریخ جب بھی کربلا کا تذکرہ کرتی ہے تو حسینؑ کی تلوار کے ساتھ زینبؑ کی زبان کا بھی اعتراف کرتی ہے، کیونکہ اگر شہادت نے اسلام کو زندگی بخشی تو خطابت نے اس زندگی کو دوام عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ رہتی دنیا تک جب بھی حق کی سربلندی، ظلم کے خلاف استقامت اور آزادیٔ ضمیر کی بات ہوگی، حضرت زینب بنت علیؑ کا نام مینارۂ نور کی طرح انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha